ساہیوال کے ٹیچنگ اسپتال میں اے سی خراب ہونے کی وجہ سے چوبیس گھنٹوں کے دوران متعدد نومولود بچے جان بحق ہوگئے، ڈپٹی کمشنر کی سیکرٹری ہیلتھ کو کارروائی کی سفارش

ساہیوال کے ٹیچنگ اسپتال میں چوبیس گھنٹوں کے دوران آٹھ نو مولود بچے جان بحق ہوگئے جس پر بچوں کے ورثاء نے نورشاہ روڈ بلاک کر کے شدید احتجاج کیا اور ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جس کے بعد پولیس کی جانب سے ذمہ دار ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی پر مظاہرین منتشر ہوگئے جبکہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ٹیچنگ اسپتال ڈاکٹر شاہد نذیر کا کہنا ہے کہ بچوں کی اموات ڈاکٹرز کی غفلت کی وجہ سے نہیں ہوئی البتہ گائنی وارڈ کے اے سی کی خرابی کی شکائیت موصول ہوئی تھی جسے بعد میں دور کردیا گیا تھا جبکہ ساہیوال کے ٹیچنگ اسپتال کے گائنی وارڈ میں صرف 18 بیڈز ہیں اور 44 کے قریب بچے زیر علاج ہیں اور ڈویژن بھر سے بچے یہاں لائے جاتے ہیں جن کا ہر ممکن علاج کیا جاتا ہے
واقعہ کے میڈیا پر آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر ساہیوال محمد زمان وٹو نے نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ڈی ایچ کیو چلڈرن وارڈ میں نومولود بچوں کی اموات کے معاملے پر رپورٹ سیکریٹری ہیلتھ کو بجھوا دی رپورٹ کیمطابق بائیو میڈیکل انجنیر کو وارڈ کے اے سی خراب ہونے کے ذمہ دار قرار دیا گیاڈی سی کی سیکریٹری ہیلتھ کو ساہیوال ٹیچنگ اسپتال کے بائیو میڈیکل انجینئر لقمان تابش کو معطل کرنے کی سفارش کی اور رپورٹ میں مزید انکوائری کرکے اسپتال انتظامیہ کے ذمہ داروں کیخلاف کاروائی کی بھی سفارش کی گئی ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*