سانحہ ساہیوال کی مکمل تفصیلات اور فائرنگ کی ویڈیو منظرعام پر

ساہیوال: سی ٹی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ کی فوٹیج منظر عام پر آگئی ہے۔ فوٹیج کے مطابق سی ٹی ڈی اہلکاروں نے چاروں طرف سے گاڑی کو گھیر رکھا رہے، اور گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کررہے ہیں۔ اہلکار فائرنگ کے بعد پہلے فرار ہوگئے اور پھر کچھ دیر بعد واپس آکر بچوں کو لے کر اسپتال پہنچایا۔۔ بچے کے بیان اور واقعے کی فوٹیج نے سی ٹی ڈی کے مؤقف بلکہ پوری کارروائی کو مشکوک بنادیا ہے۔ دور کھڑی بس میں بیٹھا شخص ویڈیو بناتا رہا۔

زخمی بچوں کے بیان نے مقابلے کے جعلی ہونے کا بھانڈا پھوڑا۔ زخمی ہونیوالے ننھے عمیر کے مطابق فائرنگ سے پہلے اُس کے والد اور اہلکاروں میں بات چیت بھی ہوئی، والد نے اہلکاروں کو کہا کہ سارے پیسے لے لو، لیکن جان سے نہ مارو، اہلکاروں نے پھر بھی گولیاں چلادیں۔

سی ٹی ڈی کی کارروائی میں زخمی بچوں کو علاج کے لیے ساہیوال سے لاہور کے جنرل اسپتال منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ واقعہ میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کو بھی لاہور منتقل کیا گیا جہاں ان کا بیان قلمبند کیا جائے گا۔

جبکہ سی ٹی ڈی کا مؤقف ہے کہ ساہیوال میں فائرنگ سے ہلاک ہونے والے دہشتگرد ہی تھے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ نے آئی جی پنجاب کو رپورٹ پیش کردی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ساہیوال سی ٹی ڈی نے حساس ادارے کی جانب سے ملنے والی اطلاع پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا۔

ساہیوال ٹول پلازہ کے قریب کار اور موٹر سائیکل پر سوار دہشت گردوں کو روکنے کی کوشش کی۔ جس پر دہشت گردوں نے فائرنگ کردی۔ سی ٹی ڈی ٹیم نے اپنے تحفظ کیلئے جوابی کاروائی کی۔ چار دہشت گرد جن میں دو خواتین بھی شامل تھیں اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ جبکہ انکے تین ساتھی موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی ٹیم نے موقع سے خود کش جیکٹ، ہینڈ گرنیڈز اور رائفلز سمیت دیگر اسلحہ اپنے قبضے میں لے لیا۔

آئی جی پنجاب نے ایڈیشنل آئی جی پولیس سید اعجاز شاہ کی سربراہی میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے جو تین روز میں رپورٹ پیش کرے گی۔

ساہیوال میں جاں بحق ہونے والوں کی پوسٹ مارٹم رپورٹ مرتب کرلی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جاں بحق خلیل کے سینے اور ہاتھ پر پانچ گولیاں لگیں۔ خلیل کی اہلیہ نبیلہ کو تین گولیاں اور تیرہ سالہ بیٹی اریبہ کو سر اور جسم پر چھ گولیاں ماری گئیں۔ جبکہ ڈرائیور ذیشان کے جسم پر پانچ گولیاں فائر ہوئیں۔

سی ٹی ڈی کی کارروائی کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا جی ٹی روڈ پر لاشیں رکھ کر سراپا احتجاج ہیں. سخت سردی کے باوجود مظاہرین جی ٹی روڈ پر کھلے آسمان تلے موجود رہے۔

مظاہرین نے ٹائر جلا کر روڈ بلاک کردیا ہے، جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں، مظاہرین کا مطالبہ ہے فلفور واقعے میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

انسداد دہشت گردی فورس نے ہنستے بستے گھرانوں پر قیامت ڈھا دی، شادی میں شرکت کیلیے لاہور سے بورے والا جانے والوں سے خوشیاں ہی نہیں زندگیاں بھی چھین لی گئیں۔

خلیل، اُس کی اہلیہ نبیلہ اور بیٹی اریبہ کو مار ڈالا، فائرنگ سے ڈرائیور ذیشان بھی دم توڑ گیا، گاڑی میں موجود خلیل کا بیٹا عمیر زخمی ہوا جبکہ دو بچیاں معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔

غلط اطلاع تھی یا ناقص ٹریننگ، سی ٹی ڈی نے بچوں کے سامنے انکے ماں باپ کو گولیاں مار کر قتل کردیا۔ یہ خونی واقعہ ساہیوال ٹول پلازہ کےدن 12 بجے پیش آیا جب سی ٹی ڈی نے ایک کار کو روک کر اس پر فائرنگ کردی۔ اندھا دھند فائرنگ سے 7 سالہ بیٹا عمیرزخمی جبکہ بیٹیاں لائبہ اور منیبہ معجزانہ طور پر محفوظ رہیں۔ سی ٹی ڈی اہلکاروں نے اس خونی کھیل کے بعد تینوں بچوں کو پیٹرول پمپ پر چھوڑ دیا اور لاشیں نامعلوم مقام پر منتقل کردیں ۔

اس واقعہ نے صف ماتم بچھادی ہلاک افراد کے ورثا کا نور شاہ روڈ پر احتجاج کیا، خلیل اور ذیشان کی والدہ پر تو غم کے پہاڑ ٹوٹ گئے۔ بورے میں والا میں بھی خوشیوں بھرے گھر میں کہرام مچ گیا۔

واقعے کے کئی گھنٹے بعد بھی لواحقین کو میتیں نہ دیں گئیں، لواحقین نے دھمکی دی کہ میتیں نہ ملیں تو خود سوزی کرلیں گے۔

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے حکم پر فائرنگ کرنے والے سی ٹی ڈی اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا، لواحقین نے وزیراعظم، چیف جسٹس اور وزیراعلی سے ذمہ داروں کو عبرت ناک انجام تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*