چیچہ وطنی: شہر میں قائم 3 سرکاری ڈسپنسریاں محکمہ صحت کی غفلت اور لاپرواہی سے غیر فعال ہو گئیں

شہر میں قائم 3 سرکاری ڈسپنسریاں محکمہ صحت کی غفلت اور لاپرواہی سے غیر فعال ہو گئیں۔ ایک ڈسپنسری عرصہ دراز سے بند ہے جبکہ باقی 2 میں صرف ایک ڈسپنسر ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔ آبادی مکین صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہوگئے۔ سماجی تنظیموں کا وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے نوٹس لینے کی اپیل۔ تفصیلات کے مطابق چیچہ وطنی شہر کے محلہ احمد نگر، شمس پورہ اور محمد آباد میں قائم 3 سرکاری ڈسپنسریاں عرصہ دراز سے بند ہیں اس وقت 2 ڈسپنسریوں میں اسلم نامی صرف ایک ڈسپنسر ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔عرصہ دراز سے ان ڈسپنسریوں میں کوئی میڈیکل آفیسر تعینات نہ ہو سکا جوکہ شہریوں کے ساتھ کھلا مذاق کے مترادف ہے ۔محکمہ صحت ساہیوال کے اعلی آفسران کی مبینہ غفلت اورعدم توجہ سے عمارتیں کھنڈرات میں تبدیل ہو چکی ہیں جبکہ ادویات کی عدم دستیابی کی وجہ سے شہری صحت کی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ۔سرکاری ڈسپنسریوں کی بندش سے علاقہ مکینوں کو شدید دشواری کا سامناہے۔محکمہ صحت کے اعلی حکام فنڈز کی قلت اور سٹاف کی کمی کا بہانہ بنا کر مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ علاقہ مکینوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان ڈسپنسریوں کے بند ہونے کی وجہ سے عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو ایک طویل سفر طے کر کے تحصیل ہیڈ کواٹر ہسپتال چیچہ وطنی جانا پڑتا ہے ۔ڈسپنسریوں کی عمارتیں مرمت اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے بھوت بنگلوں کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ اور صفائی کے ناقص نظام کی وجہ سے جگہ جگہ پر اگی ہوئی جنگلی جھاڑیاں سانپوں اور زہریلے کیڑوں کی محفوظ پناگاہیں بن چکی ہیں۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ان ڈسپنسریوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے فوری اقدامات کئے جائیں اور یہاں پر متعلقہ طبی عملہ بھی تعینات کیا جائے۔شہر کی سماجی تنظیموں نے وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد اور ڈپٹی کمشنر ساہیوال سے ان سرکاری ڈسپنسریوں کی حالت زار کا نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*