صحافتی تنظیموں نے مذکورہ انتخابی اصلاحات بل کی بعض شقوں کو مسترد کر دیا

آزادی صحافت سے متعلق قانون سازی کرتے ہوئے صحافتی اداروں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا
بل کی ہر فورم پر مخالفت کی جائے گی، پریس گیلری سے واک آؤٹ، ملک گیر احتجاج کا بھی فیصلہ، نیشنل پریس کلب میں منعقدہ اجلاس کے فیصلے

اسلام آباد ()صحافتی تنظیموں نے مجوزہ انتخابی اصلاحات بل 2017ء کی بعض شقوں کو آئین کی خلاف ورزی قرار دے کر متفقہ طور پر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مجوزہ قانون صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں لئے بغیر تخلیق کیا گیا ہے جس میں آمرانہ سوچ، آزادی صحافت اور اظہار رائے کو روکنے کی کوشش کی گئی ہے جو صریحاً آئین، بنیادی حقوق اور جمہوری معاشرے کے منافی ہے، اجلاس میں مجوزہ بل کی متنازعہ شقوں کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھانے کے لئے پارلیمانی آئینی کمیٹی، پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہوں، بار ایسوسی ایشنز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صحافتی تنظیموں نے متبادل تجاویز کا مسودہ تیار کر کے متبادل تجاویز کا مسودہ آئینی کمیٹی کے حوالے کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ صدر این پی سی شکیل انجم کی صدارت میں منعقد ہونے والے سینئر صحافیوں، تنظیمی عہدیداروں، مدیران، اینکرز، کالم نگاروں اور بیورو چیفس اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر فری اینڈ فیئر الیکشن (فافین) کی جانب سے مدثر رضوی نے شرکاء کو مذکورہ بل کے اہم نکات پر بریفننگ دی، جس پر صحافیوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ مذکورہ الیکشن کمیشن بل 2017ء کے تحت کسی بھی اہم خبر کا لیک ہونا یا اطلاع دینے والے کو 50 لاکھ روپے اور پانچ سال قید کی سزا آئین کے آرٹیکل 19 کے خلاف ہے۔ انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے دوران میڈیا کے داخلے پر پابندی لگائی گئی ہے جس پر شرکاء نے شدید احتجاج کیا، شرکاء نے اس بات پر بھی شدید احتجاج کیا کہ اس بل کی تیاری کے وقت میڈیا کو فریق نہیں بنایا گیا، اجلاس میں سینئر اراکین پر مشتمل کمیٹی بنانے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ مجوزہ بل کی منظوری سے قبل تمام متعلقہ حکام سے ہنگامی ملاقاتیں کرے گی، اگر مذاکرات سے مسئلہ حل نہ ہوا تو پھر تنظیمیں راست اقدام کرنے پر مجبور ہوں گی اس ضمن میں پارلیمنٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا، جبکہ ملک گیر احتجاج کے ساتھ ساتھ بنیادی انسانی حقوق، آزادی صحافت کے منافی اس کالے قانون کو اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کرنے کا حق بھی محفوظ رکھا گیا ہے۔ اجلاس میں سابق صدر پی ایف یو جے افضل بٹ، حامد میر، رؤف کلاسرا فاروق فیصل خان، اسلم خان، عاصمہ شیرازی، آر آئی یو جے کے صدر علی رضا علوی، جنرل سیکرٹری بلال ڈار، سابق سیکرٹری جنرل پی ایف یو جے فوزیہ شاہد، سی آر شمسی، پی آر اے کے صدر صدیق ساجد، سینئر نائب صدر بہزاد سلیمی، محسن رضا، جاوید قریشی، عبدالودود قریشی، طارق سمیر، وحید حسین، سردار عبدالحمید، متین حیدر، احمد مختار، خالد جمیل، اعجاز احمد، افتخار شیرازی، عون ساہی، پریس کلب کے عہدیداران سینئر نائب صدر آصف بھٹی، نائب صدور مائرہ اعظم، نویداکبر، فواد خورشید اور شاکر سولنگی کے علاوہ مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نمائندے شریک ہوئے۔ اس موقع پر سیکرٹری پریس کلب عمران یعقوب ڈھلوں نے شارٹ نوٹس پر شرکاء کی شرکت کا شکریہ ادا کیا جبکہ صدر شکیل انجم نے واضح کیا کہ اظہار رائے پر پابندیوں پر کسی بھی خفیہ کوشش کو اپنے اتحاد سے ناکام بنایا جائے گا، صحافت اور صحافتی اقدار کے لئے نیشنل پریس کلب کے فورم سے بھرپور، موثر آواز اٹھائی جائے گی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*